بنگلورو،17؍نومبر(ایس اونیوز) اقتدار سنبھالتے ہی سو دن کے اندر سارا کالا دھن جو بیرون ممالک میں پڑا ہوا ہے ، ملک واپس لانے اور ہر شہری کے بینک کھاتوں میں پندرہ لاکھ روپے جمع کرنے کا اعلان کرنے والے وزیر اعظم نریندر مودی نے دور اندیشی سے عاری ہوکر ہزار اور پانچ سو کے نوٹوں پر پابندی عائد کردی اور عام لوگوں کو اپنے ہی پیسوں کیلئے سڑکوں پر بھکاریوں کی طرح قطاروں میں کھڑے رہنے پر مجبور کردیا ہے۔ مودی نے جو کیا ہے اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں معاشی ایمرجنسی لاگو ہوچکی ہے۔ یہ بات آج وزیر داخلہ اور کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ڈاکٹر جی پرمیشور نے کہی۔ کرناٹکا اسٹیٹ کوآپریٹیو اینڈ ہاؤزنگ فیڈریشن کے زیر اہتمام 62ویں کوآپریٹیو ہفتہ کا افتتاح کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ مودی نے اعلان کیاتھاکہ بیرون ممالک میں جو کالادھن ملک کے امیروں نے دبا رکھا ہے، اسے سو دن کے اندر ملک واپس لائیں گے۔ حکومت کو اقتدار سنبھالے ہوئے ڈھائی سال کا عرصہ بیت چکا ہے ، لیکن اس کالے دھن کو واپس لانے کے بارے میں کوئی قدم اٹھایا نہیں گیا ہے۔ کالا بازاری کرنے والوں اور کالا دھن کا ذخیرہ کرنے والوں پر کارروائی کی بجائے مودی نے غریبوں اور عام آدمی کو بینکوں اور اے ٹی ایمس کے روبرو بھکاریوں کی طرح کھڑے ہونے پر مجبور کردیا ہے۔ایسے وقت میں جبکہ سارا عالم معاشی سست روی سے بدحال تھا، اس وقت کے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے ملک کے معاشی نظام کو ٹوٹنے نہیں دیا۔عالمی سطح پر معاشی بحران کے باوجود مستحکم معیشتوں میں منموہن سنگھ نے ہندوستان کو پانچویں مقام پر لے جانے میں کامیابی حاصل کی تھی، لیکن آج پورے ملک میں غریب ، مزدور ، قلی ، محنت کش طبقہ، چھوٹے موٹے تاجر، خانہ دار خواتین وغیرہ اپنی محنت کی کمائی حاصل کرنے فٹ پاتھوں پر کھڑے ہونے پر مجبور ہوگئے ہیں ۔نوٹوں پر پابندی کی وجہ سے ملک کا معاشی نظام ایک طرف پوری طرح مفلوج ہوچکا ہے، تو دوسری طرف چھوٹی موٹی تجارت تقریباً ختم ہوچکی ہے۔ وزیر اعظم مودی نے نوٹوں پر پابندی کے ذریعہ بڑی تجارتوں کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ ڈاکٹر پرمیشور نے کہاکہ کالے دھن کو روکنے کیلئے کرنسی نوٹوں کی تبدیلی پر کانگریس کو کوئی اعتراض نہیں ہے، لیکن اتنے بڑے منصوبوں کو من مانی طریقہ سے لاگو نہیں کیا جاسکتا۔ ملک کے غریبوں نے بڑی توقعات کے ساتھ مودی کو جتا کر اقتدار پر پہنچایا تھا، لیکن آج مودی ملک کے اسی غریب طبقے کو نہ جانے کس جرم کی سزا دینا چاہتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ ملک میں کوآپریٹیو شعبہ کافی وسیع طور پر پھیل چکا ہے۔اس کو ایک تحریک کی شکل دیکر پروان چڑھانے کی ضرورت ہے۔اس شعبہ کے ذریعہ سماج کے غریب طبقات کی ترقی ہونی چاہئے۔ ریاستی حکومت نے اس شعبہ کو بھرپور بڑھاوا دیا ہے۔اسی کوآپر یٹیو شعبہ کے ذریعہ فی لیٹر دودھ کے عوض گوالوں کو چار روپیوں کی تائیدی قیمت ادا کی جارہی ہے۔اس موقع پر کرناٹکا کوآپریٹیو ہاؤزنگ فیڈریشن کے ذریعہ ایس ٹی سوم شیکھر نے بھی اپنے خیالات ظاہر کئے اور کہاکہ ڈاکٹر جی پرمیشور ریاست کے اگلے وزیر اعلیٰ ہوں گے ، 2018کے انتخابات میں کانگریس پارٹی دوبارہ ریاست میں اقتدار پر آئے گی اور پرمیشور حکومت کی قیادت کریں گے۔ کوآپریٹیو فیڈریشن کے صدر شیکھر گوڈا ، ہاؤزنگ فیڈریشن کے صدر کڈلی ویرنا اور دیگر اس موقع پر موجود تھے۔